نئی دہلی، 26 /اکتوبر(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش انتخابی معاملے کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے ایک بڑی راحت ملی ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم پر سپریم کورٹ نے پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پرکارروائی کرے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن اور مدھیہ پردیش کی گوالیار نشست سے بی جے پی کے امیدوار پردیمن سنگھ تومر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں سیاسی جماعتوں کو ورچوئل میڈیم کے ذریعے انتخابی مہم کرنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کہا کہ آپ آگے آکر قیادت کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنے فرائض کو اس طرح انجام دیں کہ جو لوگوں کے فائدے کے لیے ہو۔ عدالت کے مطابق عدالت کو مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں، کیا آپ نے اپنا کام بہتر انداز میں کیا ہے۔ عدالت نے ایسی صورتحال پیدا کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کی کھنچائی کی جنہوں نے ہائی کورٹ کو مداخلت کرنے پر مجبور کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتوں نے پروٹوکول برقرار رکھا ہوتا تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
دراصل انتخابی مہم پر جسمانی ریلیوں پر پابندی عائد کرنے کے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کا حکم ووٹنگ کے عمل میں مداخلت کرتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کا انعقاد اس کا ڈومین ہے اور ہائیکورٹ کا حکم رائے دہندگی کے عمل میں خلل ڈالے گا۔الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم سے امیدواروں کے لئے انتخابی عمل متاثر ہوگا۔ در اصل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایم پی میں انتخابی مہم پر پابندی عائد کردی ہے۔
ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ ریلیوں کی اجازت اسی وقت دی جاسکتی ہے جب ورچوئل میٹنگز ممکن نہ ہوں۔ الیکشن کمیشن نے اپنی درخواستوں میں کہا ہے کہ کورونا بحران میں انتخابات کرانے کے لئے قوانین پہلے ہی طے ہوچکے ہیں اور ہائیکورٹ کے حکم پر روک لگائی جائے۔